بولیویا کی وادی ینگاس دنیا میں دو چیزوں کیلئے مشہور ہے. ایک خوبصورت بلند پہاڑوں کا لینڈ سکیپ اور دوسری اس میں گزرتی سڑک جسے موت کی سڑک کہا جاتا ہے. لیکن ہم بات کر رہے ہیں ان پہاڑوں میں بکھرے بکھرے کوکا کے کسانوں کے گھروں اور ان گھروں میں رہتے بچوں کی. The most dangerous ways to school ایک ٹی وی سیریل ہے. آپ اگر اس سیریل میں بولیویا ایپی سوڈ دیکھیں تو ایک ماں کی غربت اور اس کی دو چھوٹی چھوٹی بچیوں کی روزانہ اس جنگلی پہاڑوں سے ڈھائی گھنٹے کے سکول کا پیدل سفر دیکھ سکتے ہیں. ایک باپ کا اپنے دو چھوٹے بیٹوں کو ہزار فٹ بلندی سے ایک پرانی سٹیل وائر کو زپ لائن بنا کر روز اپنے بچوں کو سکول بیجھتے دیکھ سکتے ہیں.

آپ ایک 63 سالہ استانی کا اس جنگل میں سکول دیکھ سکتے ہیں. وہ جو ریٹائرمنٹ نہیں لیتی کیونکہ وہ سمجھتی ہے ان بچوں ان کی غربت اور اس جنگل سے نکلنے میں وہ اور اس کی تعلیم کردار بن سکتی ہے.

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ہمارے ملک کی اکثریت آبادی کے ایسے مسائل نہیں. ہمارا مسئلہ بس کسی سکول کے مالک و پرنسپل کی تجارتی سوچ ہے. استاد کی کم تنخواہ کی پریشانی اور اس کم تنخواہ کیلئے کم تعلیم یافتہ اساتذہ کی ہے. اس 63سالہ استانی کی سوچ کی کمیابی ہمارا مسئلہ ہے. ورنہ والدین تو یہاں بھی پیٹ کاٹ کر بچے سکول بیجھ رہے ہیں. بچے بھی روزانہ پابندی سے سکول جا رہے ہیں.

لیکن ہم جہالت کے جنگل سے نکل ہی نہیں رہے. کیونکہ ہم نے تعلیم کو تجارت سمجھ لیا ہے. یہ تجارت نہیں ہمارے انے والے کل کو آج سے بہتر کرنے کا عزم تھا دوستو.

ریاض علی خٹک

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں