کینیڈا سے تعلق رکھنے والی روزی گیبرئیل دنیا کی مشہور سیاح اور بائیکر ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں سیاحت کی غرض سے دورے کر چکی ہیں۔ انکی خاصیت یہ ہے کہ وہ جب بھی سیاحتی دورے پر نکلتی ہیں تو اکیلی اور مکمل طور پر خود مختار ہوتی ہیں۔ چند ماہ پہلے پاکستان کے سیاحتی دورے پر آئی۔ اکیلے ہی بائیک پر پہلے سندھ پھر بلوچستان سے ہوتی ہوئی پنجاب میں داخل ہوئیں۔ پورا پنجاب پھرنے کے بعد لاہور سے اپنا سفر شمالی علاقہ جات کی جانب شروع کیا۔
روزی جب پاکستان آئیں تو پاکستانی ثقافت اور کلچر سے انتہائی متاثر ہوئیں۔ جو چیز انکے لئے سب سے زیادہ حیران کن تھی وہ پاکستان بھر میں پھیلا ہوا امن امان اور پاکستانی لوگوں کا دوستانہ رویہ تھا۔ جس کا اظہار وہ بار بار اپنے سوشل میڈیا پیج پر کرتی رہیں۔ دنیا بھر سے اپنے لاکھوں فالوورز کو مستقل پاکستان کا روشن چہرہ دکھاتی رہیں۔ پاکستان سے محبت کا یہ عالم کہ اپنے پیج کی کوور پر بھی پاکستانی جھنڈے کی تصویر لگائے رکھی۔

کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر پاکستانی لوگوں کے کچھ نامناسب رویہ پر تنقید کی تو ہمارے پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی کافی وائرل ہو گئیں۔ انکی شکایت کو ہر کوئی اپنے ذہن کے مطابق لے رہا تھا۔ جہاں اکثر لوگ مثبت انداز میں اپنی غلطی کو تسلیم کر رہے تھے وہیں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو اس موضوع کو اپنی ذہنی تسکین کا سامان بنا رہا تھا۔ انل لوگوں کی چرب زبانی پاکستان سے شروع ہو کر پاکستانی معاشرے اور پھر اسلام سے شروع ہو کر اسلامی تعلیمات کو اپنی غلاظت میں رنگ رہی تھی۔ جسے دیکھ کر انکی عقل پر سوائے تف کرنے کے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔

میں چونکہ سیاحت سے تھوڑا بہت شغف رکھتا ہوں تو کبھی کبھار روزی کے پیج پر جاکر انکے سفر کی صورتحال دیکھ لیا کرتا تھا۔ ابھی یونہی بیٹھے بیٹھے انکے پیج پر گیا تو چالیس منٹ پہلے کی پوسٹ دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔ روزی گیبرل پر اللہ رب العزت نے حق کو کھول دیا اور ابھی پاکستان میں ہوتے ہوئے ہی مشرف باسلام ہو گئیں۔ اور اپنے پیج پر باقاعدہ قبولیت اسلام کا اعلان بھی کر دیا۔ الحمداللہ

انہوں نے لکھا کہ میرا شروع سے ہی تخلیق فطرت اور خدا سے گہرا تعلق تھا لیکن پھر بھی میرے گزشتہ سال انتہائی بے چینی کے عالم میں گزرے۔ دل میں طرح طرح کے سوالات جنم لیتے تھے اور میں کسی روشنی کی منتظر تھی۔ ایسے میں خود پر گزرنے والی اذیت کا ذمہ دار مذہب کو ہی ٹھہراتی رہی۔ یہاں تک کہ مرور ایام مجھے پاکستان لے کر آ گئے۔ کہتی ہیں کئی سال ایک مسلمان ملک میں گزار کر اور خاص طور پر اس علاقے کا سفر کر کے مجھ پر یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ اسلام صرف اور صرف امن و آشتی کا دوسرا نام ہے۔ اسلام کے اصل اور حقیقی معانی امن، پیار اور بھائی چارے کے ہیں۔ یہ کوئی مذہب نہیں بلکہ دستور زندگی ہے۔ جسکی بنیاد پر آپ ایک کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ میں عملی طور پر تو پہلے بھی مسلمان تھی لیکن اب باقاعدہ کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو رہی ہوں۔
روزی گیبرل کے اس قبول اسلام سے واللہ میرا ایمان تو مزید پختہ کر دیا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ انکو ایمان پر ثابت قدمی نصیب فرمائے۔ انہیں نیک صالح پاکباز مسلمان بنائے۔ انکو دنیا بھر میں اسلام کی ترویج کا ذریعہ بنائے۔ اور انکے ذریعے ہمارے ملک پاکستان کا بھی دنیا بھر میں اچھا اور پرامن پیغام پہنچائے۔ ہمیں ان سے سیکھنے کی توفیق بخشے۔

خاص طور پر روزی گیبرل طمانچہ ہیں ان لوگوں کے منہ پر جو اسلام اور مسلمانوں کے بیچ رہ کر بھی الحاد و کفر کی جانب چلے جا رہے ہیں۔ اگر انسان میں سچائی کو کھوجنے کی حقیقی لگن اور اور تڑپ ہو تو وہ کبھی بھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ دین اسلام تو دین فطرت ہے۔ دل سے کوشش کی جائے تو فطرت بھی اسلام کے رو برو لا کھڑا کرے گی لیکن یہ آجکل تحقیق و تدبر کے نام پر کیا ہو رہا ہے جو ہمارے لوگوں کو دین و مذہب سے بیزار کئے جا رہا ہے۔ اللہ ہم سب کو حقیقت سے صحیح معنوں میں آشکارا کر دے۔۔ آمین یا رب۔۔

(حذیفہ محمد قاسمی)

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں