کیا فلمی منظر ہے۔ اسطرح گدھے پہ بیٹھ کے سکول جانا۔ مٹک مٹک کے چلتی اس سواری پہ جاتے ہوئے نیند بھی نہیں آتی ہوگی۔ بندہ ہشاش بشاش ہوکر سکول جاتا ہوگا۔ یا پھر سو کر؟

فوٹو سید مہدی بخاری

جی ہاں، یہ سوال بنتا ہے۔ کیا پتا یہ سو کر ہی سکول جاتے ہوں کیونکہ روز روز مٹک مٹک کے چلنے والی سواری کا ردھم نیند کی بھی وجہ بن سکتا ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں نیند سولی پر بھی آ جاتی ہے۔ سولی پر جانے سے ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی جرم پہ موت کی سزا دینا اس جرم کا حل ہے۔ تو اس کا جواب کافی فلسفیانہ بحثوں کے بعد بھی ہاں میں ہی جا نکلتا ہے کیونکہ عوام کی بڑی تعداد جہاں انپڑھ ہوگی وہاں سزا پہ شعور دینے سے جرم نہیں ختم ہو گا بلکہ سزا ہی دینے سے جرم ختم ہوگا۔

ہم انسانوں نے بہت سے خیالی نظام بنا رکھے ہیں جن پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔ پیپر کرنسی سے لیکر حکمرانی کے انداز تک ہر نظام ایک کہانی سے جڑا ہے۔ آپ ایک کرکٹ میچ کو لیں۔ کہیں بھی کسی بھی آفاقی کتاب میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ کرکٹ لکڑی کے بلے اور گیارہ کھلاڑیوں کیساتھ کھیلنی ہے مگر انسانوں نے ایک کہانی بنائی ہے اور اس کہانی پہ سب اتفاق کرکے یہ کھیل کھیلتے ہیں اور مزہ کرتے ہیں۔

اسی طرح سکول ہیں۔ کسی بھی کائناتی اصول میں سکول جانا نہیں لکھا۔ لیکن انسانوں نے علم حاصل کرنا خود پہ لازم کیا۔ اس علم حاصل کرنے کے نتیجے میں انسان نے افلاس سے نجات پائی ۔ بھوک کو شکست دی اور کامیابی سے چاند اور مریخ تک کو مسخر کر لیا۔ اور اب اس کی بنائی مشینیں نظام شمسی سے باہر نکل چکی ہیں۔ وئیجر ون اور ٹو اس وقت ڈیپ سپیس میں ہیں اور یہ سفر یونہی چل رہا ہے۔ اگر انسان آج علم حاصل کرنا چھوڑ دیں تو اس کائناتی چکر میں کچھ بھی نہیں بدلنے والا۔ لیکن نہیں۔ انسان کے پاس شعور ہے اور اسی کی وجہ سے یہ مجبور با تحقیق ہے۔ یہ سوچے بغیر نہیں بیٹھ سکتا۔ حتی کہ جب آپ کچھ نہیں سوچ رہے ہوتے تو تب بھی آپ یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کچھ نہیں سوچ رہے ہیں۔ یہ سب انسانی دماغ کی کھیلیں ہیں۔

ان بچوں کی اس رومانوی تصویر کو جسے سید مہدی نے کھینچا دیکھ کر بہت سی سوچیں آ گئی جن میں سے چند یہ تھی۔ یہ بھی دماغ کے کھیل ہیں وہ ہر عکس سے نیا عکس بنانے کا سوچتا رہتا ہے۔

ضیغم قدیر

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں