صحن میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جو ساس ہی کو نہ پٹخے تو پھر بہو کیا ہے

ہر جگہ اور ہر گھر میں ایک جیسا نہیں ہے— کہیں بہو خراب ہے تو کہیں نندوں اور ساس نے بہو کا جینا حرام کررکھا ہوتا ہے—- ہمارے ایک دوست بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ چپکے سے بیگم کی فرمائش پر نورانی کباب ھاؤس کا چکن تکہ اور سیخ کباب پارسل کروا کر لائے کیونکہ گھر میں انتہائ سختی سے ساس صاحبہ کے بنائے مینیو کے مطابق کھانا بنتا تھا اور باہر سے کھانے کی کوئ چیز لانا عیاشی و فضول خرچی میں شمار ہوتا تھا-

آفس بیگ میں چھپا کر بمشکل ماں بہن کی نظر بچا کر اپنے بیڈ روم تک اسمگل کیا— رات کو دروازہ لاک کرکے جب چکن تکہ اور سیخ کباب کھولا تو تکے کباب کی دھواں دھار اشتہا انگیز خوشبو اور لچھے دار پیاز اور املی کی چٹنی کی لپٹیں عشق اور مشک کی طرح پورے گھر میں پھیل گئیں—- ساس صاحبہ نے پہلے تو بالکونی میں کھڑے ہو کر سونگھ لی کہ کسی کی چھت پر بار بی کیو یا کوئ مہندی کی تقریب تو نہیں ہے- محلے میں ایسی کوئ سرگرمی نہ پا کر بیٹے کے دروازے پر دستک دے کر کھلوایا-

دونوں میاں بیوی نے ھبڑ دھبڑ میں تکا الٹا سیدھا لپیٹ کر ڈرسنگ ٹیبل کی دراز میں رکھا—- دروازہ کھولا تو ساس نے بغیر کسی تمہید کے کہا کہ پتر لا تکہ تے پھڑا—- پھر خود ہی سونگھ لیتی دراز تک گئیں- تکہ چٹنی سلاد سمیٹ اٹھایا اور یہ جا وہ جا—-
دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سے لپٹ کر خوب روئے—

بشکریہ ثنااللہ خان احسان

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں