‎بہن کی رخصتی

‎بھائ بڑا سخت وقت ہوتا ہے۔۔۔۔ہم بھی دو مرتبہ یہ پتھر سینے پر رکھ چکے ہیں اور ہمارے گھر میں بھی نہ والدہ تھیں اور نہ کوئ اور خاتون، صرف ہم بھائ تھے،،ایک بہن کو رخصت کرنے کے بعد چھوٹی رہ گئی تھی ۔ گھر میں سب سے چھوٹی۔۔۔۔ انگلی پکڑ کر پیوں پیوں چلانا سکھایا—- اسکول میں ایڈمیشن سے پہلے
ABC
اور الف انار والا قاعدہ پڑھایا—- منجھلی کی شادی کے بعد یہ گھر میں اکیلی لڑکی رہ گئ تھی— لیکن بہت ذمہ داری سے گھر سنبھال لیتی تھی— جب تک وہ گھر میں رہی تب تک اتنا زیادہ محسوس نہ ہوتا تھا لیکن جب اس کی بھی بات طے ہو گئی اور پھر لڑکے والوں کو تاریخ دے دی تو بس ایک ایک دن کاٹنا بڑا کٹھن ہو گیا تھا۔ مہینے دو مہینے تو ایسے ہی گزر گئے- اب جب آٹھ دس دن شادی میں رہ گئے تو پھر تو دل میں ہول اٹھنے لگے—- یہ سوچتے ھی کلیجہ منہ کو آجاتاتھا کہ کچھ دنوں بعد وہ اس گھر سے رخصت ھو جائے گی، کبھی خیال ہی نہ تھا کہ یہ بھی چلی جائے گی- ہمیں تو وہ چھوٹی ہی لگتی تھی- آنکھوں میں آنسو آجاتےتھے،پاس بٹھا بٹھا کر ایسے ہی فضول کی باتیں کرتا،،،بار بار چائے بنوا کر رات کو دیر تک جاگ کر پرانی باتیں کرتا۔ امی کی، پاپا کی، پرانے دنوں کی جب ہم سب بہن بھائ اکٹھے امی پاپا کی چھتر چھایا تلے اکٹھے رہتے تھے- یقین ہی نہیں آتا تھا کہ یہ ایک ہفتے بعد پیا دیس سدھار جائے گی۔ بہنیں تو گھر کی رونق ، گھر کی لاڈلی ہوتی ہیں۔

اگر گھر میں دس لڑکے ہوں لیکن بہن نہ ہو تو وہ گھر گویا ایک قبرستان کا منظر ہوتا ہے مگر صرف ایک بہن کی موجودگی سے زندگی گویا مسکرانے لگتی ہے۔ ایک عجیب رونق اور چہل پہل محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی شرارتیں اور چھوٹی موٹی چیزوں کی فرمائشیں کرنے والیاں، بھائیوں کی پریشانی پر پریشان اور خوشی پر خوش ہونے والیاں۔۔۔۔ بھائ کے گھر آتے ہی چائے پانی پوچھنے والیاں—- بھائیوں پر مان کرنے والیاں- اگر ماں اور باپ کسی چیز کے لئے پیسے دینے سے منع کردیں تو بڑے یقین سے بھائیوں سے طلب کرنے والیاں کہ یہ منع نہیں کرے گا—- کمرے کے کسی کونے میں کوئ بھولی بھٹکی چھپکلی دیکھ کر الٹی سیدھی تیزی سے بھائ بھائ چلاتے باہر بھاگنے والیاں-

دن بدن شادی کی تیاریاں زور پکڑنے لگیں- ڈھولکے، رت جگے مایوں مہندی —- اور پھر وہ دن بھی آیا کہ اس کو شادی ھال سے قران کے سائے میں رخصت کر کے خالی ہاتھ ھلاتے بغیر بوگیوں کے انجن کی طرح گھر آگئے کہ گویا جیسے کبھی کوئ واسطہ ہی نہ تھا۔ گھر خالی—- سونا پن اور سائیں سائیں—- گھر میں اب بھی اس کی چھوٹی موٹی چیزیں ، رخصتی کے بعد کھونٹی پر لٹکا میلا دوپٹہ، ٹیبل پر رکھے پرانے ہیئر بینْڈ اور کلپس، بیڈ پر رکھے ٹیڈی بیئرز،،،، ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی کچھ پرانی چوڑیاں اور بندے بالیاں—- بیڈ کے نیچے دھری چپلیں- کمرے کے کونے میں رکھے ڈسٹ بن میں ٹشو پیپرز جو اس نے رو رو کر ڈھیر کئے تھے-
بہت چھوٹی سی عمر میں گھر کی ذمہ داری سنبھال لی تھی.

‎ اس کے ہاتھوں کی برتی ہوئ ایک ایک چیز، کچن کی الماریوں میں سلیقے سے جمے مصالحوں کے ڈبے، ریکس میں لگے برتن،
‎گھر کی صفائ سے لے کر کپڑے دھونے، برتنوں کی صفائ تک کام والی ماسی کے پیچھے پیچھے ہدایات دینے والی، شوق سے لئے ہوے خوبصورت چینی اور شیشے کے برتن اسی کے ھاتھ کے شیشے کی الماریوں میں جمے ہوئے، گلدانوں میں سجے آرائشی پھول۔ گھر کی سجاوٹ اور دیکھ بھال کے لیا گیا تمام سامان جو وہ وقتا” فوقتا” لاتی رہتی تھی۔ گھر کے سودے کی دی ہوئ پرچی جو ابھی تک میری جینز کی پچھلی جیب میں پڑی تھی ، گھر کی ہر دیوار سے بس اس کی آوازیں آتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔جیسے ابھی اچانک کچن سے نکل کر پوچھے گی کہ بھائ چائے بنائوں؟۔۔۔۔ نہ جانے کب یہ چھوٹی چھوٹی فراکیں پہننے والی ، پونی باندھے پورے گھر میں ناچتی گاتی پھرنے والی گڑیاں ایکدم سے اتنی بڑی ہو جاتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔۔۔۔۔۔جن کے لئے چاکلیٹس، ٹافیاں، آئسکریم لاتے ہیں اچانک ان کا جہیز تیار ہونے لگتا ہے،،،،،،جاتے جاتے بھی پورا گھر سنبھال کر جاتی ہیں۔۔۔۔۔بھائ یہ چیز وہاں رکھدی ہے، وہ چیز یہاں رکھی ہے۔ماچسوں کا پیکٹ اوپر والے خانے میں ہے۔ ۔۔۔۔چائے کی پتی کا جار خالی ہوجائے تو کونے والے کپبرڈ میں چائے کے پیکٹ رکھے ہیں—

آپ کے ھاف فرائ انڈے کے لئے بہت ساری کالی مرچیں گرائنڈ کر کے ھارلکس والے خالی جار میں رکھ دی ہیں- اوون کا بیچ والا چولہا مت جلائیے گا وہ بھڑک اٹھتا ہے—-
یہ دھوبی کے کپڑوں کی پرچی ہے۔۔۔چادریں اور تولیہ گن لینا۔۔۔۔۔ماسی سے کہہ دیا ہے کہ دوپہر میں جلدی آکر سالن بنا جایا کرے گی۔۔۔۔
اب روٹیاں تو آپ کو بازار سے ہی لانی پڑا کریں گی-
سچ پوچھو تو بہن کے جانے کے بعد گھر گھر ہی نہیں رہا۔۔۔۔ لیکن بس دعا یہی نکلتی ہے کہ اللہ بہنوں کو آباد رکھے، سکھی۔

تحریر : ثنااللہ خان احسان

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں