ایک وقت ہوتا ہے جب سڑک پر دوڑتی ہر گاڑی، بازار کی ہر دکان آپ کو پسند آتی ہے. بس آپ خرید نہیں سکتے. پھر ایک وقت آتا ہے سڑک پر دوڑتی اکثر گاڑیاں آپ خرید سکتے ہیں لیکن آپ خریدنا نہیں چاہتے. بازار میں سے آپ بہت کچھ خرید سکتے ہیں لیکن آپ خریدے بغیر چلے جاتے ہیں.

قوت خرید ہوتے بھی جو آپ کو خریدنے سے روکتی ہے اسی شعور نے یہ قوت خرید بنائی ہوتی ہے. یہ وہ شعور ہے جو خواہش کے آگے کیوں.؟ بولنا سیکھ لیتا ہے. اور جب خواہش منطقی جواب نہ دے سکے تو شعور اسے شٹ اپ کال دیتا ہے اور کہتا ہے ” نہیں” NO.

لوگ بھول جائیں گے آپ نے کیا کہا یا کیا تھا . پل پل بدلتی زندگی میں آپ کا کہنا یا کرنا اتنا اہم نہیں ہوتا جو لوگ یاد رکھیں. ہاں لوگ وہ احساس نہیں بھولتے جو آپ نے دیا ہوگا. ایک سے دوسری ملاقات میں وہی آخری احساس آپ کی پہچان بنتا ہے. اسی لئے کہا جاتا ہے پہلا تاثر ہی آخری ہوتا ہے

یہ نہیں یا No کہنا ایک فن ہے. No کہنے کا فن وہی سیکھتا ہے جو اپنے آپ کو نہیں کہنا سیکھ لے. آپ نے لکھنا سیکھا بولنا سیکھا. جگہ جگہ آپ کو اظہار کا موقع ملتا ہے. آپ نے کمانا زندگی گزارنا سیکھا. جب آپ اپنے آپ کو نہیں کہنا سیکھ لیتے ہیں تو یہ نہیں نہ صرف آپ کی قوت خرید بناتا ہے بلکہ ہر جگہ یہ آپ کے اچھے تاثر کی ضمانت بھی بن جاتا ہے. کیونکہ تب آپ صرف وہیں بولتے ہیں جو شعور کی کسوٹی پر پورا اترے ورنہ خاموشی آپ کا خاموش انتخاب بن جاتی ہے.

ریاض علی خٹک

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں