سنو مارگلہ کے جھرنے سوکھ گئے ہیں، بہتے پانی کے نشانات ایسا منظر پیش کر رہے ہیں جیسے کوئی آنکھ ابھی روتی روتی چُپ ہوئی ہو، مگر رخساروں پہ بہتے آنسوؤں کے نشان ابھی بھی باقی ہوں۔ وہ رخسار جو جیسے کسی کی جان ہوں اور اب وہ اپنی جان سے محروم ہو چکے ہوں اور ہجر کے قید خانے میں مقید کسی کھنڈر کا منظر پیش کر رہے ہوں۔

یہ منظر کافی بھیانک بھی ہے اور مسحور کن بھی، تم اگر شاعر کی نظر سے دیکھو گے تو تمہیں ہر طرف خاموشی نظر آئے گی۔ ایسے جیسے ہجر کی رات ہو، محبوب کی آمد کے انتظار میں بوڑھی ہوتی ہوا یوں چپ سادھے بیٹھی ہو جیسے اس کا لیا گیا ایک سانس محبوب کی آمد کے عمر بھر کے تخیل کو پارہ پارہ کر دے گا۔ ایسے میں ایک ٹہنی ٹوٹنے کی آواز آتی ہے اور محبوب کی آمد کے تخیل کا سارا ڈھانچہ وہیں پہ پل بھر میں ڈھے جاتا ہے۔

سنو، اگر تم یہاں میرے ساتھ آؤ تو میں ان ویرانوں میں تمہیں وہ رستے دکھاؤں گا جو اب ہزاروں قدموں کے چلنے سے منزل کو واضح کر دیتے ہیں۔ لیکن کسی زمانے میں وہ گھنے گھاس سے ڈھکے ہوئے تھے۔ ایسے میں پہلا انسان وہاں سے گزرا، وہ انسان کتنا خوش قسمت ہوگا معلوم نہیں۔ مگر یہ معلوم ہے کہ وہ اتنا بھی خوش قسمت نہیں ہوگا۔ کیونکہ اُسے اپنی خوش قسمتی کا قطعاً علم نہیں، وہ تو بس اپنی جان کی خاطر ان راہوں پہ چل نکلا تھا۔ اسے خبر بھی نہیں تھی اُس کے اٹھائے گئے قدم سے بننے والا ایک نشان مستقبل میں کڑوڑوں لوگوں کو منزل دکھائے گا۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اصل چہرے جنہوں نے پہلا قدم اٹھایا ہوتا ہے ان کو کوئی بھی یاد نہیں رکھتا، شائد اس لئے کہ انہوں نے یہ قدم اپنی ذات کے لئے اٹھایا ہوتا ہے۔ ورنہ یاد رکھنے کو تو ابھی تک کولمبس کے قدم ہمیں یاد ہیں۔ ابنِ بطوطہ کے قدموں کو ہم بھول نہیں سکتے، آچلی اور لینو کے قدم آج تمہیں کے ٹو پہ لیجا رہے ہیں۔ ڈارون کے قدم تمہیں مخلوقات کے اصل ماخذ پہ لے جائیں گے۔

سنو، یہ سب ہماری نیت پہ منحصر ہے کہ ہمارا قدم کیسا ہوگا۔ اگر ہم اپنی ذات کے لئے قدم اٹھا کر رستہ بنائیں گے تو کل کو چاہے وہاں سے ارب ہا لوگ گزر جائیں، وہ رستہ تمہارے نام سے نہیں جانا جائے گا۔ مگر وہیں اگر تم اپنے قدم دوسروں کی فلاح کی خاطر اٹھاؤ گے تو چاہے کل کو اس رستے سے ایک ہی شخص کیوں نا گزرے وہ تمہیں ضرور دعا دے گا۔

سنو، اپنی سوچ کو محدود مت کرنا، ورنہ تمہاری حالت بھی سوکھے جھرنوں جیسی ہو جائے گی، وہ جھرنے جو ہجر کی رات میں آنسو بہاتی آنکھ کی نشانی تو ہیں مگر کس کی آنسو بہاتی آنکھ کی؟ کسی کو بھی نہیں معلوم۔

ضیغم قدیر

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں