چونکہ میں ہاسٹل میں ہوں اس لئے سوشل میڈیا پہ توہینِ ساگ دیکھ دیکھ کر مجھے شدید قسم کا غصہ آ رہا ہے۔

ورنہ پچھلے ماہ جب گھر گیا تھا تو پہلے دن مجھے ساگ کھلایا گیا، اگلے دن ساگ گوشت اور اُس سے اگلے دن سابقہ ریکارڈ دیکھ کر میں خود ہی شرافت سے گاڑی میں بیٹھ کر کھیتوں کی طرف نکل گیا تھا تاکہ گھر والوں کو مزید ساگ کا نیا پکوان پکانے کی زحمت نا اٹھانی پڑے۔ اور میں ’وٹامن کے اول‘ سے بھرپور ساگ میں چر سکوں۔

میرے کزن جو ممی ڈیڈی ہیں۔ جب دوبئی سے آئے تو پکا ہوا ساگ دیکھ کر کہنے لگے مما ہم یہ گھاس کا حلوہ نہیں کھائیں گے۔

کہتے ہیں ایک انگریز نارووال آیا اُسے باجرے کی روٹی کے اوپر ساگ رکھ کر دیا گیا، اُس انگریز نے تھوڑی سی روٹی توڑی اور اسے چمچ بنا کر سارا ساگ چٹ کر گیا اور اینڈ پہ بولا ”دا گراس کری واز فنٹاسٹک“(گھاس کا سالن مزے کا بنا ہے)۔

دنیا میں ساگ اور پالک یا تو اماں ابا کو پسند ہے یا پھر پوپ آئی کو۔ دونوں کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ساگ اور پالک روز روز پکائی جائے اور جتنی بھی پکائی جائے کم ہے۔ کہتے ہیں نارووال میں اتنی زیادہ سبزیاں پکتی ہیں کہ اب یہاں کے مرغے بھی اپنی جان کا کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتے۔

کہتے ہیں آئرن کی کمی ادھوری ذہنی نشوونما کا باعث ہے، اور ہماری 45% آبادی اس کا شکار ہے۔ لیکن شکر ہو ہمارے ماں باپ کا جنہوں نے پوری سردیاں ہمیں ساگ کھلا کھلا کر آئرن کی کمی سے بچایا اور ذہین بنایا، ورنہ آج کل تو کچھ 45% والے لوگ ساگ پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ باقی سب بھی ان کے جیسے ہی بنیں۔ مگر ہمیں اس قدم کے خلاف بولنا ہوگا۔ تب تک جب تک میں ہاسٹل میں ہوں۔ خبردار جو میرے گھر جانے پر کسی نے ساگ کے حق میں لکھا تو، ورنہ لاشیں بچھیں گی لاشیں۔

تحریر

ضیغم قدیر

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں