لاہور جاڑوں میں بہت رومانوی ہوجاتا ہے سر شام اتری دھند میں سڑک کے دونوں جانب لگی بتیاں۔ جب اپنی شعاوں کا تیکھا پن کھو دیتی ہیں تو بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ سورج جب اپنی آخری ہچکی لیتا ہے تو خنکی آہستگی سے ڈیرے جما لیتی ہے۔

یہ لاہور کے عین شباب کا دور ہوا کرتا ہے۔ یہ افسانے پڑھنے کا بہترین وقت ہے۔ یہ وقت آسیب زدہ کہانیوں کو پڑھنے کا بہترین وقت ہے۔ مجھے نجانے کیوں لگتا ہے کہ افسانہ پڑھنے کا سب سے بہترین وقت اماوس کی رات ہوسکتی ہے۔ شدید سردی میں مینہ لگا ہو، ہوا اور پانی مل کر در و بام پر اپنا سر ٹکراتے ہوں۔

ایسے میں تم صاف شفاف لحاف میں دبکے بیٹھے ہو۔تمہارا لاشعور باہر کی سردی اور خنکی کا پورا ادراک رکھتا ہو۔ لیکن شعور سلیم کے ساتھ آسیب زدہ گاوں کی گلیاں ناپتا ہو۔ ایسا پراسرار گاوں جس کا ہر کردار پراسرار ہو۔ جس کے بارے میں کچھ نہ کچھ قصہ مشہور ہو۔

بابا جان محمد جسے لوگ جان محمدا پکارتے ہیں۔ جس کی اندر کو دھنسی آنکھیں اس کے بے ڈھنگے چہرے کو مزید وحشت ناک بناتی ہیں۔ جس کا ورزشی نحیف جسم اس کے مضبوط ماضی کی چغلی کھاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جان محمد کو اس کے کرموں کا پھل ملا ہے۔

بڑی مسجد کی نکڑ والی گلی پر نیم برہنہ مجذوب، جس نے گاوں کی نہر پر چالیس دن ایک ٹانگ پر کھڑے چلا کاٹا تھا۔ کہتے ہیں اس نے اپنے گرد حصار باندھا تھا، چالیس دن ایک ٹانگ پر، انتالیسویں دن یہ اس کے جھانسے میں آ گیا۔ حصار ٹوٹتے کی اس نے اسے الٹا کر اوندھے منہ زمین پر دے مارا تب سے یہ اپنا چہرہ بالوں سے چھپائے رکھتا ہے۔

قبرستان کے پاس والا گرجا گھر وہاں پادریوں نے لڑکی کا قتل کیا تھا۔ رات کو اب بھی جہاں رونے کی آوازیں آتی ہیں۔ کہتے ہیں اس لڑکی پر سایہ تھا پادریوں کے ہاتھوں مرنے کے بعد اب چڑیلیں وہاں لڑکی کا بین کرتی ہیں۔ اور ساری پادری ایک ایک کرکے پراسرار موت مار گئے۔ ایک گھر کی چھت پر اوندھا پڑا تھا، ایک تالاب میں اور ایک کی تو لاش تک نہیں ملی۔

اور یوں رات بیت جائے، ذہن دنیا کی حقیقت اور کلفتوں بلکہ جسم پر لحاف کی گرم ٹکور اور ہاتھ میں پکڑی سرد کتاب سے بے خبر رہے!

تحریر : حسنین

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں