ہماری یونیورسٹی دو وجوہات کی بناء پر مشہور تھی ، پہلی وجہ آئے روز ہونے والے طلبہ تنظیموں کے جھگڑے جبکہ دوسری وجہ جہانگیر اور عینی کی ایک دوجے سے بے پناہ محبت تھی .

تنظیمی لڑائی جھگڑوں سے زیادہ تمام ڈیپارٹس کے طلباء و طالبات کو اس بات کی سن گن لینے کی عادت تھی کہ جہانگیر اور عینی آجکل کس بات پہ لڑ رہے ہیں . خیر اسے دوطرفہ لڑائی کہنا تو سراسر زیادتی ہوگی کیونکہ عینی صاحبہ چلایا کرتی تھیں اور جہانگیر صاحب سر جھکائے سنا کرتے تھے ۔
اگر عینی صاحبہ اپنی مرد فیلوز کے ساتھ بات کر رہی ہوں اور اس پہ جہانگیر صاحب ٹوکیں تو شکی مزاج ، تنگ نظر اور جھوٹی محبت کے الزامات لگاتے ہوئے عینی صاحبہ پوری کینٹین میں مجمع اکٹھا کرلیں جہاں ہر آنکھ جہانگیر کو قبل نفرت نگاہ سے گھور رہی ہوتی .

بادل ناخواستہ اگر جہانگیر اپنی کسی کلاس فیلو سے بات کرتا غلطی سے بھی پایا جاتا تو کچھ ہی دیر میں یونیورسٹی کے لان میں عینی صاحبہ سے بے وفا ، بد کردار ، جھوٹا و دھوکے بازی کا الزام پانے کے بعد پھر سے اہلِ یونیورسٹی کی نگاہ میں قبل نفرت و تماشہ ٹھر چکا تھا .

پر تمام برائیوں اور الزامات لگانے کی عادات کے باوجود عینی میں یہ اچھی عادت تھی کہ وہ موبائل پہ میسج کر کے معافی مانگ لیا کرتی تھی .
یونیورسٹی کے دو سال یعنی چار سیمسٹر تو اسی طرح گزر گئے ، اِک روز کینٹین میں چائے سموسہ کھاتے ہوئے جہانگیر کے ساتھ اس کی کلاس فیلو بھی آ بیٹھیں ، نصیب دیکھئے کہ اس وقت عینی صاحبہ بھی کینٹین میں موجود نہیں تھیں۔ پر جب کلاس فیلو صاحبہ فزکس کے اسائنمنٹ بابت بات کر ہی رہی تھیں تو عین اسی وقت عینی صاحبہ کینٹین میں آ دھمکیں اور پھر ….

سب سے پہلے تو چائے جہانگیر پہ انڈیلی گئی اور پھر عینی صاحبہ اپنا گورا مکھڑا چہرہ لال سرخ کرتے ہوئے منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے آگ اگلنے لگیں ، مؤرخ کے بقول معلوم یونیورسٹی تاریخ میں اتنی آگ ایک ہی وقت میں ابتک کہیں نہیں بھڑکائی گئی تھی . عینی زہر اگلتی جارہی تھی اور جہانگیر چپ چاپ اُس زہر کو اپنی روح میں جذب کرتا جارہا تھا ، اور جب عینی صاحبہ تھک گئیں تو ہاتھ میں پکڑی فائلز جہانگیر کے منہ پر مارتے ہوئے ” It’s over” کہتے ہوئے وہاں سے روانہ ہوگئیں . جبکہ اس دوران آس پاس کھڑے لوگ زیر لب بمشکل ہنسی دبائے تماشہ دیکھ رہے تھے …
اُس رات بھی سوری کا میسج آیا …
پر جہانگیر نے قسم اٹھا لی تھی کہ اب عینی سے کوئی بات نہیں کرنی ہے ، اگلے روز جہانگیر یونیورسٹی گیٹ سے جونہی اندر داخل ہوا تو عینی صاحبہ سامنے بینچ پہ بیٹھی گویا اُسی کا انتظار کر رہی تھیں ، جہانگیر کو دیکھتے ہی ہاتھ اٹھا کر ہیلو کہا پر جھانگیر اِسے یکسر نظر انداز کرتا ہوا کلاس کی جانب بڑھ چکا تھا ، پہلی کلاس کیمے بعد جہانگیر چائے پینے کینٹین جایا کرتا تھا لہٰذا عینی صاحبہ اپنی کلاس چھوڑ کر کینٹین جا بیٹھیں پر اُس روز جہانگیر کینٹین نہ آیا ۔

باقی کا سارا دن بھی عینی اُسے یونیورسٹی میں تلاش کرتی رہی پر جہانگیر کہیں دکھائی نہ دیا جبکہ اُس کا فون بھی مسلسل بند جارہا تھا .
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ جہانگیر بات کرنے سے انکاری تھا اور عینی طلبگار ، کئی روز تک یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا یہاں تک کہ یونیورسٹی کے دیگر طلباء و طالبات بھی اب ان دونوں کے نا جھگڑنے کیوجہ سے بوریت کا شکار ہونے لگے تھے لہٰذا ایک وفد مذاکرات کی غرض سے جہانگیر کے پاس آیا اور معاملات حل کرنے پہ راضی کیا۔ جواباً جھانگیر کا یہی کہنا تھا کہ “میں بات نہ کرنے کی قسم کھا چکا ہوں” حالانکہ بات نہ کرنے کی تکلیف جہانگیر کو عینی سے زیادہ ہی تھی .

جب مذاکراتی وفد نے یہ بات عینی تک پہنچائی تو غصے میں بپھری عینی پیر پٹختے ہوئے جہانگیر کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی ۔
آج سپورٹس ڈے تھا لہٰذا تمام یونیورسٹی کے طلباء و طالبات یونیورسٹی گراؤنڈ میں موجود تھے خیر سے جہانگیر بھی وہیں تھا ۔
جہانگیر کو سٹینڈ میں بیٹھا دیکھ کر غصے میں آگ بگولہ عینی تیز تیز قدموں کے ساتھ گراؤنڈ کے بیچ سے ہوتے ہوئے سٹینڈ تک پہنچی , اس وقت گراؤنڈ میں فٹبال کا میچ جاری تھا جسے ریفری سیٹی بجا کر روک چکا تھا ۔

تمام یونیورسٹی والوں کو معلوم تھا کہ اب کیا ہونے جارہا ہے لہٰذا سارا گراؤنڈ اپنی نگاہیں عینی اور جہانگیر پہ مرکوز کئے بیٹھا تھا ۔
“دو ٹکے کے انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے نظرانداز کرنے کی؟ میں پورے ہفتے سے ماری ماری پھر رہی اور تمہیں کوئی فکر نہیں؟ خود کو سمجھ کیا رکھا ہے تم نے؟ میں تو تم پہ تھوکنا بھی گنوارہ نہ کروں محبت تو اب بہت دور کی بات ہے ۔ دھوکے باز انسان منہ سے کچھ پھوٹو بھی اب ….”

پر جہانگیر تو بات نہ کرنے کی قسم کھا چکا تھا لہٰذا جواب کیسے دیتا؟

” جانتی ہوں تم نے بات نہ کرنے کی قسم کھائی ہوئی ، یہ اچانک تمہاری غیرت کیسے جاگ گئی؟ چلو منہ سے نہیں پھوٹنا تو ہاتھ اٹھا کر بتا دو کہہ کبھی مجھ سے محبت کی بھی تھی یا نہیں ؟ تاکہ میں بھی تم پہ چار حروف بھیج کر اپنی جان بھی تم سے چھڑا لوں ، اٹھاؤ ہاتھ اگر محبت کرتے ہو تو ….”

اس میں تو کوئی شک نہیں تھا کہ جہانگیر دیوانہ وار محبت کرتا ہے اور یہ بات چیخ چیخ کر عینی کو بتانا چاہتا تھا پر قسم آڑے آرہی تھی اور اب جب موقع ملا محبت جتانے کا تو جہانگیر نے پوری طاقت کے ساتھ عینی پہ ہاتھ اٹھا دیا ……

ایک بھیانک گونجدار آواز پورے گراؤنڈ میں گونج اٹھی ، سینکڑوں طلباء و طالبات کی موجودگی کے باوجود گراؤنڈ و اطراف میں موت سا سناٹا تھا ، لگ بھگ پندرہ سیکنڈز بعد جب عینی کی آنکھوں سے اندھیرا چھٹا اور کانوں سے ٹوں کی سیٹی بند ہوئی تو لرزتے کانپتی آواز میں منمناتے ہوئے بولی

“ابے او گدھے میں ہاتھ اٹھا کر کھڑا کرنے کا کہا تھا مجھے تھپڑ مارنے کا نہیں …. جاہل انسان “

اُس رات جہانگیر نے تین بار سوری کا میسج بھی کیا پر شاید عینی اُس کا نمبر بلاک کر چکی تھی …. !!!

ملک جہانگیر اقبال

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں