بقاء کی انوکھی جنگ قسط اول

 

رزق کی دوڑ جان کی پرواہ کرنا چھڑوا دیتی ہے۔ میں نے پیسوں کی خاطر، روٹی کی خاطر انسانوں کو مرتے دیکھا، مگر مجھے نہیں علم تھا کہ جانور بھی ایسی کوئی خوبی رکھتے ہیں۔ لیکن پھر الپائن آئی بیکس نامی بکری کا پتا چلا۔ یہ بکریاں اپنی خوراک کی خاطر ڈیڑھ سو فٹ سے بلند عمودی چٹان پہ چڑھ جاتی ہیں۔ جہاں سے ایک سِرکتا قدم انکی جان گنوا سکتا ہے۔

 

دراصل ان پتھروں میں خاص قسم کی معدنیات اور نمکیات پائی جاتی ہیں۔ اور یہ ان جنگلی  بکریوں کے اعصابی نظام کے لئے  بہت زیادہ ضروری ہیں۔ ان کے بغیر ان کا اعصابی نظام (نروس سسٹم)  نمو نہیں پاتا جس کے نتیجے میں ان کے پٹھے کام نہیں کر سکتے۔ مگر ان بکریوں نے اپنی جان بچانا ہوتی ہے۔ سو یہ ایک سو ساٹھ فٹ اونچی عمودی چٹان پہ پتھر چاٹنے کے لئے جاتی ہیں۔ یہ پتھر معدنیات  اور نمکیات سے بھر پور ہیں جو کہ انکے عصبی نظام کو چاہیے۔ اور وہاں پہ یہ اپنی ضرورت کیمطابق یہ معدنیات لیتی ہیں۔ انکے بچے اپنی ماؤں کے نقشِ قدم پہ چلتے ہوئے اوپر تک جاتے ہیں۔

 

یہ بقاء کی جنگ ان بکریوں کو اتنی بلندی پر جانے کے لئے مجبور ر دیتی ہے۔ یہاں سے پھسلا ایک قدم ان کو ایک سو ساٹھ فٹ نیچے گرا سکتا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی جاتی ہیں۔ ان بکریوں کے پاؤں اس کام کے لئے اڈاپٹ ہوچکے ہیں۔ ان کے  کھر بٹے ہوئے اور تلوے ربڑ جتنی لچک رکھتے ہیں۔ اور یہ ارتقائی بدلاؤ ان کو ان پہاڑیوں پہ چڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔

 

یہ جنگی بکریاں یورپ کی چوٹیوں میں پائی جاتی ہیں۔ المختصر ، بقاء کی جنگ نا صرف انسانوں کو جان جوکھوں پہ ڈالنے پہ مجبور کر دیتی ہے بلکہ یہ جنگ دوسری تمام مخلوقات کو بھی اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ اور یہ تمام مخلوقات اپنی جان کی بقاء کی خاطر یہ سب کرتی ہیں۔

 

اور ہم کسی قدر خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور میوؤں کے نقصان سے تمہاری آزمائش کریں گے توصبر کرنے والوں کو (خدا کی خوشنودی کی) بشارت سنا دو  ﴿۱۵۵﴾

اور یہی صبر اور کوششِ مسلسل  ان تمام مخلوقات کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

 

تحریر ضیغم قدیر

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں