ہماری لڑکیوں کے لئے ایک مشعلِ راہ

جب وہ تیرہ سال کی تھی ، اس نے یہ سیکھ لیا کہ طیارہ کیسے اڑاتے ہیں ، یہاں تک کہ خود ایک طیارہ بنا کر اسے اکیلے ہی اُڑا بھی لیا ، یہ طیارہ اس نے خود ہی اور بلکل اکیلے بنایا اور اس کی ویڈیو یوٹیوب پر پبلش کی۔

ایم آئی ٹی پروفیسر ہیگرٹے اور مرمن نے جب یہ ویڈیو دیکھی تو ان کے الفاظ یہ تھے کہ “ ہمارے منہ لِٹرلی کُھلے کے کھلے رہ گئے تھے “ ، یہ طیارہ اس نے چودہ سال کی عمر میں بنایا۔ اس نے انڈر گریجویٹ فیزیکس کی ڈگری ایم آئی ٹی MIT سے تین سال میں فائیو پوائنٹ زیرو جی پی اے 5.0 GPA کے ساتھ حاصل کی ، ہارورڈ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اب پرنسٹن یونیورسٹی میں ایک رائزنگ پوسٹ ڈاکٹورل فیلو ہیں۔

سٹیفن ہاکنگ جیسی شخصیت 2016 میں ان کے ہائی انرجی پر کیے گئے کام کا حوالے دے چکے ہیں ، ہاروڈ انسٹیوٹیوٹ سوچتا ہے کہ دنیا کو نیا آئن سٹائن ملنے والا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ آئن سٹائن ایک ہی تھا ، ان کو نئے آئن سٹان کا خطاب قبول نہیں ہے مگر یہ کہ وہ جب واقعی میں اس مقام تک پہنچ جائیں ، اس سے پہلے بلکل نہیں۔ ان کا لکھا گیا ایک ریسرچ پیپر پہلے ہی ہارورڈ کے گریجویٹ کیروکیلم curriculum میں شامل ہو چکا ہے۔ دنیا کی ہر بڑی آرگنائزیشن بشمول دنیا کے سب سے امیر ترین انسان جیف بیزوس کی بلیو اوریجن blue origin اور دنیا کی مشہور سپیس ایجنسی ناسا NASA کی ان کے ساتھ کام کرنے کیلئے بیتاب ہیں۔ ان کی عمر اب 26 سال ہے۔ ان کا نام سبرینا گونزلیز پیسٹرسکی Sabrina Gonzalez Pasterski ہے۔
۔
یہ کہتی ہیں کہ ” جب آپ تھک جائیں تو سو جائیں اور جب آپ تھکے نہ ہوں تو آپ فیزیکس کرتے ہیں”۔
۔
ان کا کہنا ہے کہ ” میرے خیال میں سب سے اہم یہ ہے کہ وہ خواب جو آپ نے دیکھے ہوئے ہیں اور وہ مقاصد جو آپ نے بچپن میں طے کر رکھے تھے ، ان کے بارے میں بڑے ہو کر مایوسی اور نااُمیدی نہیں رکھنی چاہیے “۔
۔
یہ کہتی ہیں کہ ” جب میں خود کو کسی کام کیلئے موٹیویٹ کرنا چاہتی ہوتی ہوں ، مثلاً اگر کوئی کام میں کرنا چاہتی ہوں اور مجھ سے نہیں ہو رہا ہے ، تو میں دیکھتی ہوں کہ کیا کسی اور نے یہ کام پہلے کیا ہے ؟ اگر ہاں کسی نے کیا ہے ، تو میں کہتی ہوں کہ جب وہ کر سکتے ہیں تو میں بھی کر سکتی ہوں “۔
۔

مزید کہتی ہیں کہ ” مجھے بہت اچھا اور طاقت کا احساس ہوتا ہے جب مجھے یہ محسوس ہو کہ میرے فیلڈ کے میرے اساتذہ جو زیادہ تر مرد ہیں ، مجھے صرف اس وجہ سے کوئی خاص اہمیت اور پروٹوکول نہیں دے رہے ، کہ میں فقط ایک عورت ہوں۔
مجھے عورت ہونے کی وجہ سے کوئی خصوصی مرکزیت نہیں دی گئی ، اور بہت اچھا محسوس ہوتا ہے جب آپ کی غلطیوں کو معاف نہیں کیا جاتا یا آپ کے ساتھ برتاو کو لوگ فقط اس وجہ سے نرم نہیں رکھتے ، کہ آپ ایک لڑکی ہیں ، اور مجھ پر بنا میری نسوانیت کے کُھلی تنقید ہوتی ہے ، جو میری بہتری کیلئے سب سے اہم چیز ہے “۔
۔
۔
یہ اُن افراد کیلئے ایک خاموش مگر برستا ہوا پیغام ہے جو مرد و عورت کے ذہانت میں تفریق کے قائل ہیں۔

بشکریہ سلمان امین

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں