صفائی نصف ایمان ہے!

ضیغم قدیر

کل ایک خبر پڑھ رہا تھا، خبر کیا تھی ایک آئینہ تھا جو ہمارے ہر شہری کو دکھانا بنتا ہے۔ خبر کچھ یوں تھی کہ سویڈن میں کچرا ختم ہوچکا ہے اب وہ کچرے سے بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈنمارک سے کچرا درآمد کر رہے ہیں۔

خبر کی صداقت میں جائے بغیر بھی اگر دیکھا جائے تو سویڈن اور ڈنمارک دنیا کے دس خوش ترین ممالک میں نمایاں نمبروں پہ آتے ہیں۔

عام طور پہ ہمارا یورپ بارے تصور بہت ہی عامی سا ہے۔ ہم پتا نہیں کیا کیا سمجھتے ہیں۔ لیکن یورپ میں ہماری نسبت اخلاقی اور سماجی برائیاں ننانوے فیصد کم ہیں۔ اگر صرف صفائی اور سچائی کی بات کریں تو وہ ہم سے ہزاروں سال آگے ہیں۔

ہمارا قومی و مذہبی نعرہ صفائی نصف ایمان کا ہے۔ وہیں ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی کچرا مل جاتا ہے۔ کراچی جیسا پڑھا لکھا شہر بھی کچرے سے بھرا پڑا ہے۔ یہ تو ہمارا حال ہے۔
وہیں یہاں کرپشن عام ہے، چوریاں عام ہیں۔ سماجی برائیوں میں ہم ان سے آگے ہیں۔ ہمیں بس سوچنا ہوگا، شرم کھانی ہوگی کہ ہم کس سمت میں جارہے ہیں۔

ہمیں سوچنا ہوگا۔ اور اپنی سمت بدلنا ہوگی

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں