تحریر ضیغم قدیر

مرحوم اقبال نے ان نوجوانوں سے محبت کا دعوی کیا تھا جو ستاروں پہ کمند ڈالتے ہیں۔ اور کارل سیگان وہ نوجوان تھے جن کے کام کی بدولت ہم ستاروں پہ کمند ڈال رہے ہیں۔ وئیجر ون نامی خلائی پروب اب نظام شمسی سے نکل کر باہر گہری خلاء میں چلا گیا، وئیجر ٹو بھی ساتھ ہو لیا ہے۔ اور یہ کائنات میں یونہی تاقیامت جاتے رہیں گے۔ بقول اقبال؛

محفلِ قدرت ہے اک دریائے بے پایانِ حسن
آنکھ اگر دیکھے تو ہر قطرے میں ہے طوفان حسن

ایک گروہ کی رائے میں یہ کائنات حقیقی نہیں، بلکہ واہمہ، فریب اور مایا ہے۔ افلاطون نے اپنے مکالمات میں اسے ضلّ اور سایہ قرار دیا ہے۔ گویا وہ اسے نمود بے وجود سمجھتا تھا۔ وہ محسوسات کے ذریعے حاصل ہونے والی معلومات کو ناقابلِ اعتماد اور فریب نظر تصور کرتے ہوئے کائنات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ علامہ اقبالؒ نے اس کے اس نظریے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:۔

فکرِ افلاطوں زیاں را سود گفت

حکمت او بود را نابود گفت

اسی طرح کچھ لوگ وینس نامی سیارے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے۔ مگر کارل سیگان نے بتایا کہ یہ سیارہ ایسا کیوں ہے اور آج ہم نے اس بات کی تصدیق بھی کر لی ہے کہ وینس گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے ایسا ہے۔

جہاں مرشد اقبال کے دئیے ہوئے پیغام کیوجہ سے یہ ملک وجود میں آیا وہیں مرشد سیگان کے کہے پیغام وئیجر میں محفوظ دور خلاؤں میں پہنچ چکے ہیں اور کوئی مستقبل کی ایلین مخلوق اس کو انشاءاللہ عزوجل پڑھے گی۔ اور ان سے ہمارے مراسم وجود میں آئیں گے۔

جہاں اقبال نے ہمارے شعری ذوق کو جلا بخشی تو وہیں کارل سیگان نے مجھے سائنسی تحاریر آسان زبان میں لکھ کر عامیوں کی مدد کرنے کی توفیق دی۔ میرے لئے دونوں شخصیات قابل احترام ہیں۔ خدا تعالی ان کا حامی و ناصر ہو۔ وہ کہہ گئے ہیں کہ؛

محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

اور بقول سیگان

”کائنات کی ان عظیم وسعتوں کے آگے ہم رائی کے دانے جتنی بھی اہمیت نہیں رکھتے۔ ہمارے لڑائی جھگڑے، مسائل ان کائناتی وسعتوں کے آگے کچھ بھی نہیں۔ ہمیں بس سوچنا ہوگا۔“

شیئر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں