Spread the love

رابی پیرازادہ کے قصہ سے نصیحت حاصل کیجیے


سب سے پہلے تو یہ دعا کرنی چاہیے کہ عورت چاہے دشمن کے گھر کی بھی کیوں نہ ہو اسکی عزت محفوظ رہنی چاہیے۔ عزت ویسے مرد کی بھی نیلام ہوتی ہے لیکن چونکہ پاکستانی معاشرہ Male Dominating چہرہ رکھتا ہے اس لئے مرد کی غلطیوں کو عام طور پہ جلدی بھلا دیا جاتا ہے اسکے مقابلے میں عورت اگر وہی غلطی کرے تو ساری زندگی نہیں بھلائی جاتی۔ یہ ایک المیہ ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بہر حال دیکھتے ہیں رابی پیرازادہ کی ویڈیوز لیک کرنے کا وقعہ ہمیں کیا سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔

سب سے پہلا اصول جس کی پاسداری مرد و خواتین کو کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کی جوانی قابو سے باہر ہو رہی ہے تو فوراً سے پہلے شادی کر لیں۔ والدین سے یہ بات کہتے شرمانا نہیں چاہیے اور والدین کو بھی چاہیے کہ وہ “مالی بلوغت” کا انتظار کرتے کرتے “جسمانی بلوغت” کو نظر انداز نہ کریں ورنہ کوئی “کٹا” کھل سکتا ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شادی کے بعد بھی شوہر کے ساتھ خاص حالت میں تصویریں یا ویڈیوز نہ بنائیں کیونکہ خدانخواستہ طلاق ہو گئی اور شوہر کم ظرف نکلا تو آپ کو بعد میں بھی رسوا کر سکتا ہے۔ ایک PSP افسر نے اپنی سابقہ بیوی کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا۔ طلاق کے بعد اگر ایک سول سرونٹ اس حد تک گر سکتا ہے تو اوسط ذہنیت کا حامل شوہر بھی شاید ایسا کر گزرے اس لئے فطری انداز اختیار کرنے میں ہی عافیت ہے۔
دوسرا یہ کہ اگر آپ شادی بھی نہیں کر رہے اور کسی (ایک یا متعدد) جنس مخالف سے رابطے میں بھی ہیں تو رابطے کو ہر حال میں صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں۔ اگرچہ اسکا امکان کم ہے لیکن یہ ناممکن ہرگز نہیں۔

تیسری اہم بات خواتین کے لئے یہ ہے کہ اگر آپ کا “وہ” آپ سے مخصوص قسم کی ” سیلفی پکس یا ویڈیوز” وٹس اپ کرنے کا کہتا ہے تو جوتا اٹھاتے دیر نہ لگائیں۔ اول تو اس قسم کے بندے سے رابطہ ہونا ہی آپ کے بیوقوف ہونے کی علامت ہے لیکن اگر اس کی یہ ڈیمانڈ سننے کے بعد بھی آپ اس سے رابطے میں ہیں تو یقین کریں آپ کے دماغ میں بھوسہ بھرا ہوا ہے عقل نام کی چیز مفقود ہے۔

چوتھا اہم اصول یہ ہے کہ “دیکھ کے ڈیلیٹ کر دوں گا/گی” ٹائپ فراڈ کا شکار مت بنیں۔ کوئی نہیں ڈیلیٹ کرتا/کرتی۔ اگر کرے بھی تو سب ریکور ہو جاتا ہے۔
پانچویں بات یہ ذہن میں بٹھا لیں کہ آپ کا موبائل ہیک بھی ہو سکتا ہے اس لئے کم سے کم فیملی کی تصاویر اور ویڈیوز سیو کریں۔ (میرے موبائل میں میری بہنوں اور ماں کی ایک بھی تصویر نہیں ہے ویڈیو تو ناممکن ہے)۔ اسی طرح اپنی انتہائی زاتی نوعیت کی پکس ویڈیوز بھی سیو نہ کریں۔ ضروری ہے کہ فضول قسم کی Apps ڈاؤن لوڈ نہ کریں کیونکہ ایسی اکثر Apps آپ کا ڈیٹا چوری کرنے آتی ہیں (ایک دفعہ میرے ساتھ ایسا ہو چکا ہے شکر ہے کوئی قابلِ اعتراض مواد نہیں تھا).

چھٹا اہم اصول یہ ہے کہ اپنے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ وغیرہ کو اپنے گوگل کلاؤڈ کا پاسورڈ نہ دیں۔ کچھ چیزیں انتہائی خاص ہوتی ہیں جو صرف آپ کے پاس ہونی چاہیے۔ پاسورڈ بھی ان میں سے ایک ہے۔ رابی پیرازادہ کے قصے میں بھی ایک افواہ یہ ہے کہ اسکے سابقہ بواۓ فرینڈ کے پاس اسکے کلاؤڈ کا پاسورڈ تھا۔
ساتویں نصیحت یہ ہے کہ موبائل خراب ہونے کی صورت میں قابلِ بھروسہ شخص کو ٹھیک کرنے کے لئے دیں ورنہ آپ کا ڈیلیٹ کیا گیا ڈیٹا بھی با آسانی ریکور ہو سکتا ہے۔ آپ موبائل بننے کے لئے دے کے چلے جائیں گے اور جب تک واپس آئیں گے آپ کا ڈیٹا چوری ہو چکا ہوگا۔ بہتر ہے سارا ڈیٹا پہلے کسی جگہ (لیپ ٹاپ وغیرہ) پہ کاپی کریں اور پھر موبائل فارمیٹ کر دیں۔
آٹھویں اہم بات ان خواتین و حضرات کے لئے ہے جو کسی بھی سیاسی گروہ سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور عملی طور پہ سیاسی معاملات میں ملوث ہوتے ہیں۔ رابی پیرازادہ تحریک انصاف اور ففتھ جنریشن وار والے غفور بھائی کے کیمپ سے تعلق رکھتی تھی۔ ہمیشہ ساتھ دینے والی لڑکی جب نیلم منیر کے آئٹم سونگ کا دفاع کرنے پہ غفور بھائی کے خلاف ٹوئٹر پہ بولی تو اٹھارہ گھنٹے بعد اسکی برہنہ ویڈیوز لیک ہو گئیں۔ یاد رکھیں پاکستانی سیاست رنڈی خانے سے زیادہ نجس اور بدبودار ہے۔ پرو اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتیں بالخصوص اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتیں بالعموم آپ کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتی ہیں۔ اپنی زندگی کو اس قسم کی سیاست کے لئے اجیرن بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سیاستدانوں اور جرنیلوں کی باہمی کشمکش کا تماشہ دیکھ کے انجوائے کیا کریں بس اس سے زیادہ انکو اہمیت نہ دیں ورنہ یہ لوگ آپ کی اور آپ کے بوڑھے والدین کی عزت چوراہے پہ نیلام کرنے سے نہیں گھبرائیں گے چاہے آپ کا والد ریٹائر فوجی افسر ہی کیوں نہ ہو۔

#منقول

اپنا تبصرہ بھیجیں